Chichawatni-Information

میرا پیارا شہر چیچہ وطنی 


فیس بک لنک

عنوان

نمبر شمار

https://www.facebook.com/share/v/DhgDTyKPR8KLCgx9/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی جنگل

1

https://www.facebook.com/share/p/np6gVEguupWQ5EVK/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی کے انٹرنیشنل ہاکی پلئیر

2

https://www.facebook.com/share/p/dPvJmvNep6Y9UM88/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی کا رائے نیاز سکول

3

https://www.facebook.com/share/v/JasCA48VVLcoKVAU/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی کا ایم سی ہائی سکول

4

https://www.facebook.com/share/v/8Mp47oVYHo51vMUM/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی شہر کا فضائی جائزہ

5

https://www.facebook.com/share/p/KzX8eUPahbAhSCJp/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی شہر کی سیاسی ڈائری

6

https://www.facebook.com/share/p/4areGWmBXuDmdoKf/?mibextid=oFDknk

چیچہ وطنی ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر سماجی راہنما انٹرویو

7

https://www.facebook.com/share/p/rfrfcxi7sT9f1pTc/?mibextid=oFDknk

گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 112/12 ایل،  بہادر گڑھ

8

https://www.facebook.com/share/p/RKXzDynoMwLRWVxo/?mibextid=oFDknk

میرے پیارے ماڈل گاؤں چک نمبر 112/12 ایل بہادر گڑھ کی کچھ دلچسپ اور تاریخی معلومات

9

https://www.facebook.com/share/v/CtWfpFxgKzWUZGFk/?mibextid=oFDknk

چک نمبر 112/12 ایل کا ویڈیو نظارہ

10

https://www.facebook.com/share/v/kKLyWoSH6BffwTPg/?mibextid=oFDknk

سولر ٹیوب ویل پارٹ ون

11

https://www.facebook.com/share/v/o8TQUb5zZjtUNohC/?mibextid=oFDknk

سولر ٹیوب ویل پارٹ ٹو

12



پاکستان کا دوسرا بڑا جنگل (چیچہ وطنی کا جنگل)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

چیچہ وطنی شہر پاکستانی جنگلاتی ڈویژن کا صدر مقام ہے۔

سن 1857 کی جنگ آزادی کے دوران اس جنگل میں مقامی لوگ انگریزوں کے خلاف لڑے تھے۔

دوسری جنگ عظیم میں بہت سے غیر ملکی قیدیوں کو لا کر یہاں اس جنگل میں قید کر دیا گیا تھا۔

قیام ۔پاکستان سے قبل ساہیوال پہلے ( منٹگمری ) جیل سے قیدیوں کو لایا جاتا تھا ان سے جنگل کے لئے کام کرایا جاتا تھا پودے وغیرہ لگاتے تھے رات کو جنگل میں بیرکیں بنائی ہوئی تھیں ان بیرکوں میں بند کر دیا جاتا تھا اور پھر صبح ان کو کام پر لگا لیا جاتا تھا

وہ بیرکیں 37 بارہ ایل کے قریب جنگل میں بنائی ہوئی تھیں

دوسری جگہ بیرک کی کوٹلہ کے نزدیک تھی

آج بھی ان کی نشان دہی ہو سکتی ہے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس جنگل کی باقاعدہ شجرکاری 1927 میں ہوئی

اس کا کل رقبہ 11596 ایکٹر ہے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس کے چھ بلاک ہیں

بلاک سسٹم داد فتیانہ سے شروع ہوتا ہے

داد فتیانہ کا بلاک نمبر ایک ہے

چیچہ وطنی شہر بلاک نمبر دو اور تین ہیں

چک نمبر 112/12 ایل اور کوٹلہ ادیب شہید کا بلاک نمبر چار ہے

چک نمبر 115/12 ایل کا بلاک نمبر پانچ ہے

اور کسووال کا ایریا بلاک نمبر چھ میں آتا ہے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اورگینوگرام کچھ اس طرح ہوتا ہے

ڈی ایف او - ڈویژنل فارسٹ آفیسر

ایس ڈی او - ارینج آفیسر

بلاک آفیسر

فارسٹ آفیسر - گارڈ

ہر بلاک مین دو بیلدار ہیں

جنگل میں کام کرنے والوں کی رہائش گاہیں اور کالونیاں ہیں

نیشنل ہائی وے-5 پر یہ جنگل 35 سے 40 کلومیٹر طوالت میں ہے

سب سے بڑا 'چھانگا مانگا جنگل' ہے۔

دو دہائیوں بعد جب یہ پودے درخت بن گئے تو شہد کی شکل میں حیاتیاتی کرہ میں ایک انوکھا وسیلہ شامل ہوا۔

امریکہ میں مقیم ایویئن کنزرویشن آرگنائزیشن پیریگرین فنڈ نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں چیچہ وطنی کے جنگلات میں تحقیق کی۔

-------------------------------------------------------------------------------------------

ماسٹر احمد سعید کی زبانی چیچہ وطنی کی کہانی

مشہور گانا

دیکھی تیری چیچہ وطنی

رات ٹیلیاں تھلے گزاری

 

اوکانوالا روڑ میں ٹیلیاں بہت تھیں

رحمانیہ کتب خانہ کی جگہ کھوکھے ہوتے تھے

ٹیلیاں کی کثرت تھی

چچ نامی قوم گزری ریلوے کے پار موجودہ پرانی چیچہ وطنی میں دریا کے کنارے آباد تھی، جس کی وجہ سے اس کا نام چیچہ وطنی پڑ گیا تھا

گنجی بار کا علاقہ وہ کہلاتا ہے جسے ایک نہر سیراب کراتی ہے

دو دریاؤں کے درمیانی علاقہ کو آبادی کہتے ہیں

چیچہ وطنی انگریز نے 1914 میں آباد کیا تھا

ساہیوال، ہڑپہ، کمالیہ، دیپالپور، پاکپتن پہلے کے آباد تھے

ریلوے لائن 1861 میں بھچھی اور 1865 میں چیچہ وطنی کا ریلوے اسٹیشن بنا

ریلوے لائن اور جی ٹی روڈ دونوں پشاور سے کراچی یہاں سے ہی گزرتے ہیں

پاکستان بننے سے پہلے نیشنل ہائی وے بورے والا کی طرف تھی

چیچہ وطنی میں ہاتھ سے لگایا گیا جنگل بھی بہت مشہور ہے جو کہ دادا فتیانہ سے کسووال تک ہے

چیچہ وطنی کے ٹوکرے بہت مشہور ہیں

پارٹیشن سے پہلے ہندو اور سکھ یہاں سے ہجرت کر کے لدھیانہ، جلندھر اور ہوشیار پور چلے گئے

چیچہ وطنی کی آبادی تقریبا ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہے

میونسپل کمیٹی کام کر رہی ہے

چیچہ وطنی تحصیل جنرل ضیا دور میں 1984-85 میں بنی

اس سے پہلے ساہیوال تحصیل تھی

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہلے کالج روڈ پر تھا

-------------------------------------------------------------------------------------------

میرے شہر چچہ وطنی سے قمر ضیاء کے بعد دوسرے انٹرنیشنل ہاکی کے کھلاڑی

رانا محمد حماد انجم

پاکستان کے قیام سے قبل ان کی فیملی انڈیا میں لدھیانہ میں رہائش پذیر تھی

پاکستان بننے کے بعد چیچہ وطنی کے گاوں

Chak No 111/7r

میں قیام پذیر ہیں

ان کے والد صاحب سکول ٹیچر ہیں،

قومی ہاکی ٹیم میں لیفٹ آؤٹ کی پوزیشن میں کھیلتے ہیں

-------------------------------------------------------------------------------------------

گورنمنٹ رائے نیاز ہائی سکول چیچہ وطنی کی تاریخ

رائے نیاز پبلک سکول چیچہ وطنی کی بنیاد 1968 میں ایک پرائیویٹ سکول کے طور پر سابق ایم این اے رائے احمد نواز نے اپنے چچا رائے نیاز کے بعد رکھی تھی۔

کرائے کی عمارت میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوا۔ عمارت بلاک نمبر 12 میں احمد سعید پلازہ سے ملحق تھی۔ سکول کے اخراجات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے رائے احمد نواز نے تحصیل میلسی چک نمبر اٹھاسی میں اپنی ذاتی زمین سے ایک مربع ایکڑ زرعی زمین سکول کو عطیہ کی۔

رانا ولی محمد (مرحوم) اس سکول کے پہلے پرنسپل تھے اور تنویر شاہ سائنس کے استاد تھے۔ بھٹو دور میں جب 1972 میں سکولوں کو نیشنلائز کیا گیا تو رائے نیاز پبلک سکول سرکاری سرپرستی میں آیا۔

اس طرح کرائے کی عمارت بھی حکومت کے قبضے میں آگئی اور اسکول انتظامیہ اور مالک مکان عدالت کے چکر لگانے لگے جس میں اسکول انتظامیہ ناکام ہوگئی۔

آج جس جگہ گورنمنٹ رائے نیاز ہائی سکول موجود ہے وہ محکمہ اوقاف کا تھا۔ اس جگہ پر لڑکیوں کا سکول تھا جسے بعد میں نہر کے کنارے میں منتقل کر دیا گیا اور اس جگہ پر کچھ عرصے کے لیے ہاسٹل بھی بنایا گیا۔

اس کے بعد اس جگہ کو تالہ لگا دیا گیا۔ رائے نیاز پبلک سکول جو کہ اب گورنمنٹ رائے نیاز سکول بن چکا تھا ۔

نیشنلائزیشن کے بعد تحصیل میلسی چک نمبر 88 میں سکول کے نام پر ایک مربع ایکڑ زرعی اراضی بھی حکومت کے قبضے میں آ گئی۔ اس علاقے پر ایک کسان نے قبضہ کر لیا تھا اور 26 سال بعد 1998 میں اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔

اب نمبردار طارق اس رقبے پر کاشت کرتا ہے اور ہر چھ ماہ بعد وہ 100 روپے کا چیک بھیجتا ہے۔ اسکول کو 200,000 روپے جو اسکول انتظامیہ حکومت پنجاب کو منتقل کرتی ہے۔

رائے نیاز ہائی سکول کی موجودہ عمارت تین کنال کے رقبے پر محیط ہے جو کہ سکول کی موجودہ ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔ تدریسی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے سات سال قبل محلہ گاؤ شالہ میں 16 کنال اراضی سکول کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے الاٹ کی تھی۔

یہ علاقہ شرمندہ روڈ پر گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول چیچہ وطنی گاؤ شالہ کے علاوہ واقع ہے۔ لیکن یہاں سکول کی عمارت نہ بن سکی، حالانکہ اب یہاں ایک کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے کمیونٹی ہال بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ اتنی لاگت سے سکول کی عمارت بن سکتی تھی۔

گزشتہ سال اس کمیونٹی ہال کے لیے باقاعدہ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا جس میں گورنمنٹ رائے نیاز ہائی اسکول کے اندر تعمیراتی کام کا ذکر کیا گیا تھا۔ بلدیہ چیچہ وطنی کی زیر نگرانی تعمیراتی کام شروع۔

-------------------------------------------------------------------------------------------

گورنمنٹ ہائی سکول چیچہ وطنی

گورنمنٹ ہائی سکول چیچہ وطنی سٹی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں واقع ہے۔

اسکول میں کل 1744 طلباء

اٹھاون اساتذہ

تیس کلاس رومز 

کلاس رومز 30 ​​









-------------------------------------------------------------------------------------------

چیچہ وطنی کی سیاسی ڈائری

تحریر: ماسٹر رانا سرفراز صدیق تاؤنی راجپوت

--------------------------------------------------------------------------

سال 1985

ایم این اے: رائے احمد نواز خاں

ایم پی اے: رائے علی نواز خاں

--------------------------------------------------------------------------

سال 1988

ایم این اے: رائے احمد نواز خاں

ایم پی اے: رائے علی نواز خاں

--------------------------------------------------------------------------

سال 1990

ایم این اے: رائے احمد نواز خاں

ایم پی اے: رائے حسن نواز خاں

--------------------------------------------------------------------------

سال 1993

ایم این اے: بیگم شہناز جاوید

ایم پی اے: چودھری منیر ازہر ایڈووکیٹ

--------------------------------------------------------------------------

سال 1997

ایم این اے: رائے احمد نواز خاں

ایم پی اے: رائے حسن نواز خاں

--------------------------------------------------------------------------

سال 2002

ایم این اے: فاروق احمد لغاری - سابق صدر پاکستان

ضمنی الیکشن سعید احمد گجر

ایم پی اے: چودھری ارشد جٹ

--------------------------------------------------------------------------

سال 2008

ایم این اے: نعمان احمد لنگڑیال

ایم پی اے: چودھری ارشد جٹ

--------------------------------------------------------------------------

سال 2013

ایم این اے: رائے حسن نواز خاں

ضمنی الیکشن چودھری طفیل جٹ

ایم پی اے: چودھری ارشد جٹ

--------------------------------------------------------------------------

سال 2018

ایم این اے: رائے مرتضیٰ اقبال خاں

ایم پی اے: رائے مرتضیٰ اقبال خاں

ضمنی الیکشن صمصام بخاری

-------------------------------------------------------------------------

سال 2024

ایم این اے امیدوار:

رائے حسن نواز خاں

چودھری طفیل جٹ

ملک نعمان لنگڑیال

چودھری زاہد اقبال

ایم پی اے امیدوار:

رائے مرتضیٰ اقبال خاں

چودھری حنیف جٹ

چودھری زاہد اقبال

-------------------------------------------------------------------------------------------

چیچہ وطنی شہر کا فضائی جائزہ



میرے ماڈل گاؤں چک نمبر 112/12 ایل بہادر گڑھ کی کچھ دلچسپ اور تاریخی معلومات

تحریر و تحقیق: رانا عمران صدیق - 03134318149

معلومات

تفصیلات

نمبر شمار

1914

گاؤں کی آبادکاری

1.      

چکنمبر 112/12 ایل

گاؤں کا نمبر

2.      

بہادر گڑھ

گاؤں کا نام

3.      

گاؤں کا حدود اربعہ

4.      

جی ٹی روڈ اور جنگل

بجانب شمال

5.      

چک نمبر 111/12 ایل اور چک نمبر 108/12 ایل

بجانب جنوب

6.      

چک نمبر 110/12 ایل اور چیچہ وطنی شہر

بجانب مشرق

7.      

مغرب : چک نمبر 113/12 ایل

بجانب: مغرب

8.      

62 مربعے:

مربعہ نمبر پانچ سے تریسٹھ

کُل رقبہ

9.      

8512

کُل آبادی

10.    

3170

رجسٹرڈ ووٹرز

11.    

تین

وارڈ نمبر: 209010110

وارڈ نمبر:  209010111

وارڈ نمبر:  209010112

مردم شماری کے  وارڈز

12.    

این اے 143

قومی اسمبلی حلقہ

13.    

پی پی 203

صوبائی اسمبلی حلقہ

14.    

68

یونین کونسل نمبر

15.    

چوہدری امیر خاں - چوہدری دلدار کے والد صاحب

نظام دین - عطا محمد نمبردار کے والد صاحب

عنایت خاں- غلام سرور نمبردار کے والد صاحب

آبائی اور  مشہور و معروف آبادکار

16.    

تین

نہری پانی کے موگے

17.    

ایک

نہری پانی کی  موگی

18.    

چھ

کل مساجد

19.    

تین:

جامع مسجد چوک

مسجد شہداء

اللہ والی مسجد

گاؤں میں مساجد

20.    

ایک:

گلزار مدینہ

 بستی قُطراں مسجد

21.    

ایک:

صدیقیہ مسجد

بستی قبرستان مسجد

22.    

ایک

جامع مسجد اسلامیہ

نہر کنارے مسجد

23.    

شمس الدین عُرف بابا بولا

چراغ دین - 104 سال کے فوت ہوئے

پہلا امام مسجد

دوسرا امام مسجد

24.    

ایک:

را نا اعجاز صدیق

درسِ نظامی عالم دین

25.    

دو:

عائیشہ صدیقہ اللبنات

امتیاز اللبنیات

مدارس للبنات

26.    

تین:

نذر شاہ صاحب

اظہر شاہ صاحب

ناظر علی شاہ صاحب – پندرہ شعبان المعظم

سالانہ عُرس

27.    

دو:

گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز

گورنمنٹ مڈل سکول فار گرلز

گورنمنٹ سکول

28.    

تین:

قاسمیہ فیروزیہ پبلک سکول

اے بی سی نرسری سکول

پنجاب سائنس سکول

پرائیویٹ سکول

29.    

دو:

پروفیسر محمود صاحب

پروفیسر حبیب صاحب

لیکچرار / پروفیسر

30.    

پانچ:

ماسٹر رانا سرفراز صدیق ،

ماسٹر قمر الزمان ،

ماسٹر مدثر عباس ،

ماسٹر سلمان صادق ،

ماسٹر رانا بلال حسین

گورنمنٹ حاضر سروس اساتذہ

31.    

ایک:

ڈاکٹر لیاقت مسعود صاحب

پی ایچ ڈی ڈاکٹر

32.    

دو:

ڈاکٹر حنیف اسلام آباد

ڈاکٹر  عاصم پرویز

ایم بی بی ایس ڈاکٹر

33.    

ایک

مسلم قبرستان

34.    

ایک

عیسائی قبرستان

35.    

دو

نمبرداریاں

36.    

تین

ذیلداری مربعے

37.    

ایک

آر- او،  واٹر فلٹر پوائنٹ

38.    

تین

ایک : نجف

ایک: باشا

ایک: غلام حسین ڈوگر

آٹے والی چکیاں:

فکس

موبائل آٹے والی چکی

ٹریکٹر والی چکی

39.    

تین

گھوڑی پال مربعے

40.    

ایک

سپورٹس اسٹیڈیم

41.    

دو

اینٹوں والے بھٹے

42.    

تین

موٹر سائیکل ورکشاپ

43.    

دو ایکٹر

مسجد کی سرکاری  زمین

44.    

دو ایکٹر

مولوی صاحب کی زمین

45.    

دو + دو (چار ایکٹر)

ترکھانون کی زمینیں

46.    

دو ایکڑ

چوکیدار کی زمین

47.    

دو ایکٹر

بگاری کی زمین

48.    

چار

ٹائر پنکچر شاپ

49.    

چھ

ہئیر سیلون

a.      

27

کریانہ سٹور

50.    

دو

بیوٹی پارلر

51.    

ایک

سپر سٹور- ڈی این جی کولیکشن

52.    

ایک

فاسٹ فوڈ پوائنٹ

53.    

تین

برگیڈئیر رانا عبداللہ

میجر رانا طارق محمود خاں

کیپٹن  عبدالرافع  - (برگیڈئیر عبداللہ کا بیٹا)

آرمی آفیسرز

54.    

دو

ایس پی رانا محمد اسلم مرحوم

ڈی ایس پی رانا محمد اکرم مرحوم

پولیس آفیسرز

55.    

تین

سموسہ شاپ

56.    

ایک

03347682370

رانا جاوید ایڈوانس آرڈر کیک+ شامی کباب پوائنٹ

57.    

ایک

فری ڈسپنسری

58.    

تین:

ڈاکٹر اشرف

ڈاکٹر ظہیر عباس

ڈاکٹر صابر حسین

ڈسپنسر / ڈاکٹر کلینک

59.    

دو

ہفتہ وار مفت لنگر خانے

60.    

ایک

ڈاکٹر طاہر

ویٹرنری  ڈاکٹر

61.    

دو

ٹیلر شاپ

62.    

دو

پیکو، اوور لاک، کڑھائی پوائنٹ

63.    

ایک

ایل پی جی گیس پوائنٹ

64.    

پانچ

حاجی اسلم   

اکرام عُرف صاحب

ماجد سلیم

طارق گجر

عمر علی

الیکٹریشن + پلمبر

65.    

ایک

شہباز

کارپینٹر  - بڑھئی

 

66.    

ایک

فاروق رحمانی

فرشی پتھر فکسنگ

67.    

ایک

لکڑی کا آرا

68.    

دو:

رانا یوسف – مائیکل

رانا واجد علی برنالیہ

کنٹرولڈ شیڈ

69.    

ایک:

رانا امجد آسٹریلیا

ائل ملز

70.    

ایک:

چودھری عبد الستار

ہیچری

71.    

ایک

انگور کا باغ

72.    

ایک:

عثمان بشیر

ٹرانسفارمر مرمت ٹیکنیشن

73.    

جان محمد عُرف جانو مستری نے 1965 کی جنگ میں بیل فنڈ میں دیا

مسز رانا محمد صدیق نے 1971 کی جنگ میں سونے کی انگوٹھی فنڈ میں دی

جہاد / جنگ فنڈ

74.    

اسماعیل تیلی

حشمت علی آرائیں

عالم حکیم

ایک دن میں ایک ایکڑ گندم جنھوں نے کاٹی

75.    

شوکت پُھل والے

محمد ارشد گجراتی

آصف پلیاں والا

ایک دن میں آدھا ایکڑ گندم جنھوں نے کاٹی

76.    

چوہدری امیر خاں

اکبر دین

گاؤں میں پہلا نلکا

دوسرا

77.    

ایک (مرکزی چوک)

چار:

مسجد،

اسد اللہ – مہرالنساء

پُھل والے

یوسف - یونس کا دادا

گاؤں میں کنواں

چھوٹے کنوائیں

78.    

رانا طفیل نمبردار نے خریدا

پہلا سائیکل

79.    

دو

گاؤں میں مویشیوں کے لئے  تالاب

80.    

ایک

گاؤں میں ڈاک خانہ خاص

81.    

نو گھنٹے کیکروں کے لئے پانی مُختص تھا

گاؤں کو ہفتہ وار پانی  

82.    

کینو اور امرود

گندم ، مکی ، تل، اور کپاس

گاؤں میں باغات اور  اہم فصلیں

83.    

راجپوت ،ارائیں،انصاری، چوہان ،رحمانی، مسلم شیخ ،غفاری، ڈوگر ، گجر، کھوکھر ملک اور غیر مسلم ، و دیگر بہت پیار محبت سے زندگی بسر کر رہے ہیں

گاؤں میں برادریاں

84.    


































-------------------------------------------------------------------------------------------

تاؤنی راجپوت سماجی راہنماء انٹرویو،

رانا محمد صدیق خاں، تاؤنی راجپوت ( ریٹائرڈ سینئر پوسٹ ماسٹر)

تاریخ: 9 جنوری 2024

میزبان

ماسٹر رانا سرفراز صدیق، تاؤنی راجپوت

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سوال: آپ کا نام اور تعارف؟

رانا محمد صدیق خاں ولد حاجی صوبیدار بھوپو خاں ولد حاجی قطب دین خاں ولد امام بخش خاں، تاؤنی راجپوت

سوال: حال مقیم کہاں ہیں؟

چک نمبر 112/12-ایل ، تحصیل چیچہ وطنی، ضلع ساہیوال

سوال: آپ کے اجداد انڈیا میں کہاں رہتے تھے؟

پنڈ شیر پور، تحصیل دھوری، ضلع بسی، ریاست پٹیالہ

سوال: ہجرت کے احوال بیان کریں؟

جس رات شیر پور سے ہجرت کرنی تھی، دن کو مشورہ ہوا اور ساری رات پورامحلہ جاگتا رہا ،

ہمارے 2 راک منشی اور حضورا سنگھ کے اونٹوں پر سامان لادا اور شفٹنگ شروع کی۔

سارا محلہ رو رہا تھا۔ والد صاحب نے محلے والوں کو یہ کہہ کر تسلی دی آپ لوگ حوصلہ رکھیں، ہم کچھ دنوں کے بعد واپس آ جائیں گے۔

مگر محلے والے جانتے تھے کہ آزاد پاکستان کا اعلان ہو چکا ہے، اب یہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جیسے جیسے سارا سامان لوڈ ہو رہا تھا ویسے ویسے محلے کی عورتیں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہی تھیں۔

شیر پور میں ہمارے آباواجداد بڑے کلیدی عہدوں پر فائز رہے تھے جس کی وجہ سے اہلیان شیر پور والد صاحب کے خاندان کی بہت عزت و تکریم کرتا تھا۔

والد صاحب نے جاننے والے تین افراد جن کو پیچھے چھوڑا تھا ان مین ایک مائی سیداں بہت نیک خاتون تھی، ایک صدرو گجر اور ایک تایا رحمت۔ انکو والد صاحب نے کہا کہ گھر، زمین اور مال مویشی کا خیال رکھیں۔

تایا رحمت نے روتے ہوئے بعد ازاں بتایا کی ہندووں نے پہلے مائی سیداں کو قتل کیا

پھر صدرو گجر کو قتل کیا،

اورآخر میں تایا رحمت کو قتل کرنے لگے تھے کہ ہجوم میں سے کچھ سیانے آدمیوں نے کہا کہ رحمت، خان صاحب یعنی محترم حاجی بھوپو خاں صاحب کا عزیز ہے۔ اس طرح تایا رحمت کی جان بچی اور انکو محفوظ علاقے کی طرف روانہ کیا۔

والد صاحب اور دو بڑے بھائی پارٹیشن کے وقت فوجی کانواے کے ساتھ ہی حجرت کرکے ہی پاکستان آ گئے تھے مگر چونکہ باقی سارا خاندان ابھی انڈیا میں ہی تھا۔اِسلئے دوبارہ پاکستان سے واپس انڈیا گئے تاکہ اپنے خاندان والوں کو بحفاظت پاکستان لا سکیں۔

اس طرح 1947 میں شیر پور انڈیا سے ہجرت کر کے مہسم گجرات پاکستان میں آے۔

انیس سال مہسم گجرات میں گزارنے کے 04 نومبر1966 کو مہسم سے ہجرت کرکے ایک سو بارہ – بارہ –ایل بہادر گڑھ چیچہ وطنی شفٹ ہو گئے ۔

سوال: انڈیا میں کتنی زمین تھی، نیز پاکستان میں کتنے کلیم ملے؟

انڈیا میں چودہ ایکٹر زرعی زمین تھی

گجرات مہسم میں 40 ایکٹر زمین تھی

بڑے بھائی محترم صوبیدار حاجی محمد شفیع خاں صاحب کے پاس خوشاب 56 ایم بی-تین چک میں دس ایکڑ کی لاٹ زمین بمعہ مکان ہے

بڑے بھائی کو دو مربعے زمین 1972 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملے، ان میں سے ایک مربعہ 30 سال بعد 2002 میں آرمی نے واپس لے لیا، جبکہ دوسرا مربعہ مزید 20 سال بعد بھائی کے فوت ہونے کے بعد 2022 میں ارمی نے واپس لیا۔

بچیکی میں بھی والد صاحب کی 14 ایکٹر زمین تھی جو کہ فروخت کردی تھی

چیچہ وطنی میں بھی 14 ایکٹر دو کینال اور بارہ مرلے زمین ہے

سوال: آپنے ددھیال کے بارے میں بتائیں؟

والد صاحب حاجی صوبیدار بھوپو خاں صاحب کی دو شادیاں تھیں

پہلی شادی سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، بیٹا مصر 1941 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران شہید ہو گیا، جبکہ بیٹی کاچھوٹی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔

دوسری شادی سے ہم آٹھ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔

سوال: آپنے ننھیال کے بارے میں بتائیں؟

میری والدہ صاحبہ انڈیا میں چھت گاؤں کاؤلی، تحصیل راجپورہ، ریاست پٹیالہ (نزد انبالہ) کی تھیں، جبکہ پاکستان میں میرا ننھیال خوشاب میں موضع چن میں منتقل ہوا تھا۔

سوال: آپ کی عمر کتنی ہے یا تاریخ پیدائش کیا ہے؟

میری ڈاکومنٹڈ تاریخ پیدائش یکم مارچ 1947 ہے ، اصل میں 1946 کی ہے۔

سوال: آپ کی تعلیم کتنی ہے؟

میٹرک

سوال: آپ کا زریعہ معاش کیا ہے؟

میں نے 42 سال پاکستان پوسٹ آفس میں سروس کی اور 28 فروری 2007 کو پورے اعزاز کے ساتھ بطور سینئر پوسٹ ماسٹر ریٹائرڈ ہوا

دوران سروس مندرجہ ذیل شہروں میں پوسٹنگ ہوتی رہی۔

گجرات، اوکاڑہ، عارف والا، کسووال، چیچہ وطنی، اقبال نگر، بہاول نگر

سوال: آپ نے حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

جی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد سب سے پہلے اپنی درینہ خواہش زیارت مکہ و مدینہ کی تکمیل کے لئے 23اپریل 2007 تا 07 مئی 2007 تک عمرہ کی سعادت حاصل کی

سوال: آپ کتنے بہن بھائی ہیں؟

ہم آٹھ بھائی اور تین بہنیں ہیں

ریٹائرڈ صوبیدارحاجی رانا محمد شفیع خاں صاحب

ریٹائرڈ صوبیدار میجر رانا محمد لطیف خاں صاحب

رانا محمد سلیم خاں صاحب

ریٹائرڈ چیف محمد حنیف خاں صاحب (آئل اینڈ گیس کمپنی) حال مقیم امریکہ

رانا محمد حفیظ خاں صاحب

ریٹائرڈ آنریری کیپٹن حاجی رانا محمد افضل خاں صاحب

رانا محمد مشتاق خاں صاحب

سوال: آپ کا سسرال پاکستان میں کہاں سے ہے اور انڈیا میں کہاں سے تھے اور ان کی گوت کیا ہے؟

میرا سسرال انڈیا میں گاؤں مہندی پور، تحصیل گڑھ شنکر، ضلع ہوشیار پور سے تھا اور انکی گوت گھوڑے وا ہے

جبکہ پاکستان میں فیصل آباد کے نواحی قصبہ ڈجکوٹ میں مقیم ہے۔

سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں؟

میرے الحمدللہ پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہیں،

سب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں

سوال: ریٹائرمنٹ کے بعد کیا مصروفیت ہے؟

اپنے آپ کو خدمت خلق کے لئے وقف کیا ہوا ہے، اس سلسلے میں گاؤں کے چند مخیر حضرات کے ہمراہ اسرا ویلفیر سوسائٹی کو بنا کر اس کے تحت مندرجہ ذیل فلاحی کام ہو رہے ہیں۔

فری ڈسپنسری

قرض حسنہ

مسجد صدیقیہ کی تعمیر

دستکاری سکول (یہ پروجیکٹ بہت کامیابی سے چلا مگر اب فنڈز کی کمی کی وجہ سے بند کرنا پڑا)

لائبریری اور خدمت مرکز (یہ بھی اب بند ہو چکا ہے)

اپنی ذاتی حیثیت میں بھی حسب توفیق متعدد کام جاری ہیں

گاؤں کے تیس کے قریب ریٹائرڈ پنشنرز کو ان کی دہلیز تک عرصہ دراز تک پنشن پہنچائی، خرابی نظر کی بنا پر اس خدمت کی سعادت سے بھی محروم ہونا پڑا۔

گاؤں کے بچوں اور بچیوں کے سکولوں اور قبرستان کی باری باری صفائی ستھرائی بھی روزانہ کے شیڈول میں شامل ہے

سوال: آپ کے رشتہ داریاں کن شہروں میں ہیں؟

لاہور، فیصل آباد،ملتان، ساہیوال، بہاول نگر، گوجرانوالہ، اسلام آباد، راول پنڈی، موضع چن-خوشاب اور پیرووال

سوال: آپ کا بلڈگروپ کیا ہے؟

اے - پازٹیو

سوال: آپ کی پسندیدہ ڈش کونسی ہے؟

اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر حلال چیز کا اپنا ہی مزہ اور اور فائدہ ہے، اس لئے سب کچھ شُکر کے ساتھ کھا لیتا ہوں

سوال: آپ کی پسندیدہ شخصیت کونسی ہے؟

سیاسی شخصیت عمران خاں

سوال: آپ کا پسندیدہ کھیل کونسا ہے؟

دیکھنے کی حد تک کرکٹ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

:تحریر

رانا عمران صدیق، فرام چیچہ وطنی

-------------------------------------------------------------------------------------------

گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 112/12-ایل، (بہادر گڑھ) تحصیل چیچہ وطنی، ضلع ساہیوال

میرے گاؤں کی درسگاہ جہاں میں نے ماں کی گود کے بعد ابتدائی تعلیم حاصل کی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

گورنمنٹ پرائمری سکول یکم اپریل 1954 کو بنا

اس کی موجودہ عمارت بعد میں بنی ابتدائی دنوں میں گاؤں کے مرکزی چوک میں بوہڑ کے درخت کے نیچے اس کی کلاسز ہوتی تھیں

شروع میں اس سکول میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے تھے جب تک لڑکیوں کا علیحدہ پرائمری سکول نہیں بنا

یکم اپریل1998 کو پرائمری سکول سے مڈل سکول پروموٹ ہوا

جبکہ آٹھ جون 2020 کو یہی مڈل سکول اپ گریڈ ہو کر ہائی سکول بن گیا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس سکول کا خاصہ یہ ہے کہ اسے ہر دور میں ہی انتہائی محنتی معلمین ملے

چند ایک تو ایسے ہیں کہ عشروں کے بعد بھی لوگ ان کا نام بڑے ادب سے لیتے ہیں جن میں

ماسٹر جان صاحب

ماسٹر اقبال صاحب

(گؤشالہ- چیچہ وطنی )

ماسٹر لطیف صاحب

ماسٹر شریف صاحب

ماسٹر فقیر حسین صاحب

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سکول کا رقبہ 3 ایکٹر ۔

کورڈ ایریا 2 کینال14 مرلے۔

اَنکورڈ ایریا 21 کینال 6 مرلے ۔

اس کی باؤنڈری وال 1454 فٹ ،

گراؤنڈ رقبہ 65,90 میٹر ھے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کلاس رومز 11

آفس 1

سٹور 1

واش روم 6

گراسی پلاٹس 2

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

طویل عرصہ تک تعلیمی خدمات کے لحاظ سے

ہیڈ ماسٹر حبیب لودھی صاحب کی پرائمری سکول سروس 29 سال

ماسٹر محمد اقبال گجر صاحب 29 سال (جاری ہے )

ماسٹر رانا سرفراز صدیق صاحب سروس 20 سال (جاری ہے )

سروس کا آغاز 16 نومبر 2003 ہے

جبکہ اِس سکول میں 28 اکتوبر 2004 سے ہیں

ماسٹر عبدالرشید صاحب 12 سال

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

طویل مُدت ہیڈ ماسٹر

ماسٹر حبیب لودھی صاحب - پرائمری سکول

ماسٹر محمد بشیر صاحب - مڈل سکول

انچارج ہیڈ ماسٹر

ماسٹر محمد اقبال گجر صاحب

-------------------------------------------------------------------------------------------

مشہور انٹرنیشنل کبڈی پلئیر رانا مقبول فرام 109/12 ایل حال مقیم آسٹریلیا


 


Comments